Navigation

تیز رفتار ورزش دل اور میٹابولک صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند قرار

نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ زیادہ شدت والی ورزشیں (جیسے مختصر دورانیے کے اسپرنٹ) دل اور میٹابولک صحت کو بہتر بنانے میں درمیانی شدت کی ورزشوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتی ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران محققین اس بات پر توجہ دے رہے ہیں کہ لوگ اپنی کارڈیو میٹابولک صحت کو بہتر بنانے کے لیے کون سے طریقے اختیار کرسکتے ہیں۔ اس سے مراد دل، خون کی شریانوں اور جسم کے میٹابولک نظام کی صحت اور ان کے باہمی تعلق سے ہے۔ مثال کے طور پر خون کی شریانیں جسم کے مختلف حصوں تک آکسیجن سے بھرپور خون کتنی مؤثر انداز میں پہنچاتی ہیں، اس کا اثر اس بات پر پڑتا ہے کہ خلیوں میں موجود مائٹوکانڈریا توانائی پیدا کرنے کے لیے ایندھن کو کتنی اچھی طرح استعمال کرتے ہیں۔ صحت مند قلبی نظام ہارمونز اور خون میں موجود شوگر کو جسم کے متعلقہ حصوں تک پہنچانے اور جسم سے فاضل مادے خارج کرنے کی صلاحیت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ گزشتہ مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ کمزور کارڈیو میٹابولک صحت رکھنے والے افراد میں ٹائپ ٹو ذیابیطس، دائمی گردوں کے مرض اور جگر کی چربی سے متعلق بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم، اچھی خبر یہ ہے کہ صحت مند طرزِ زندگی اپنانے سے کارڈیو میٹابولک صحت کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ اس میں متوازن غذا کا استعمال، سگریٹ نوشی سے پرہیز، مناسب اور معیاری نیند، ذہنی دباؤ کو قابو میں رکھنا اور جسمانی سرگرمی کو معمول کا حصہ بنانا شامل ہیں۔ جرنل سیل رپورٹس میڈیسن میں شائع ہونے والی نئی تحقیق نے ورزش اور کارڈیو میٹابولک صحت کے درمیان تعلق کو مزید واضح کیا ہے۔ مطالعے میں محققین کے علم میں یہ بات آئی کہ زیادہ شدت والی ورزشیں، خصوصاً اسپرنٹ انٹرولز، کارڈیو میٹابولک صحت کے مختلف اشاریوں کو بہتر بنانے میں درمیانی شدت کی ورزش، جیسے مسلسل سائیکل چلانے، کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہوسکتی ہیں۔

from The Express News https://ift.tt/mKUrjve
Share
Next
This is the most recent post.
Previous
قدیم تر اشاعت

Post A Comment:

0 comments: