عمیر اکبر
انسان کو فطرت نے آنکھیں دیں تو اس نے دیکھنا سیکھا، کان دیے تو سننا، اور زبان دی تو بولنا۔ مگر پڑھنا؟ پڑھنا انسان نے خود ایجاد کیا۔ یہ معمولی سا فرق نہیں؛ شاید انسانی تہذیب کی پوری تاریخ اسی فرق کے اندر پوشیدہ ہے۔
انسان نے پہلے آوازوں کو محفوظ کرنے کی خواہش محسوس کی، پھر آوازوں کو علامتوں میں ڈھالا، علامتوں سے حروف وجود میں آئے، حروف نے الفاظ کی صورت اختیار کی اور الفاظ نے تحریری نظام کو جنم دیا۔ یوں ایک ایسی دنیا وجود میں آئی جس میں انسان اپنے مرنے کے بعد بھی بول سکتا تھا۔ تحریر نے وقت، فاصلے اور موت کی حدود کو کسی حد تک عبور کر لیا۔
یہ انسانی تہذیب کی عظیم ترین ایجادات میں سے ایک تھی۔ لیکن ہر بڑی طاقت کی طرح تحریر بھی اپنے اندر ایک سوال رکھتی ہے: کیا علم صرف فائدہ دیتا ہے، یا اپنے ساتھ کوئی خطرہ بھی لاتا ہے؟
پڑھنا انسان کا فطری عمل نہیں. فطرت کے بارے میں ہمارا عمومی تصور یہ ہے کہ وہ اپنے بنیادی نظام میں توازن رکھتی ہے۔ لیکن فطرت کو صرف مہربانی کے استعارے میں سمجھنا بھی درست نہیں۔ بارش زندگی بخشتی ہے، مگر یہی بارش سیلاب بن جائے تو تباہی لاتی ہے۔ دریا تہذیبوں کو جنم دیتے ہیں، مگر یہی دریا کبھی بستیاں بھی بہا لے جاتے ہیں۔ اس لیے شاید اصل سوال قدرت اور انسان کی بنائی ہوئی چیز کے درمیان فرق کا نہیں، بلکہ طاقت کے استعمال کا ہے۔ تحریر بھی ایسی ہی ایک طاقت ہے۔
ہم اکثر رسم الخط کو محض زبان لکھنے کا طریقہ سمجھتے ہیں، حالاں کہ ایک محقق کے لیے رسم الخط اس سے کہیں زیادہ اہم چیز ہے۔ رسم الخط کسی تہذیب کے حافظے کی چابی ہے۔ دنیا میں تہذیبی تجربات کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جن تک ہماری رسائی صرف اس لیے محدود ہو گئی کہ بعد کی نسلیں ان کے رسم الخط پڑھنا بھول گئیں۔ دستاویز ہمارے سامنے موجود ہے، مگر ہم اسے پڑھ نہیں سکتے۔ پرانی کتاب کتب خانے میں محفوظ ہے، مگر اس کے الفاظ ہمارے لیے خاموش ہیں۔ کسی شخص نے صدیوں پہلے اپنی زندگی، اپنے معاشرے اور اپنے عہد کے بارے میں لکھا، مگر ہم اس کی آواز تک نہیں پہنچ سکتے۔
کیوں؟ صرف اس لیے کہ ہم اس کے حروف نہیں جانتے۔ یہیں سے رسم الخط کی اصل اہمیت سامنے آتی ہے۔ جس دن آپ کسی اجنبی رسم الخط کو پڑھنا سیکھ لیتے ہیں، اسی دن ایک بند دروازہ کھل جاتا ہے۔ اور پھر سچائی کا مسئلہ سامنے آتا ہے۔
ہر تحریر کے پیچھے صرف الفاظ نہیں ہوتے؛ ان کے پیچھے تاریخیں، تجربات، تصورات، اختلافات اور بعض اوقات ایسی سچائیاں بھی ہوتی ہیں جو موجودہ اجتماعی بیانیے سے مختلف ہوتی ہیں۔ یہیں سے پڑھنے کا عمل دلچسپ بھی ہو جاتا ہے اور کسی حد تک خطرناک بھی۔ کیونکہ جو شخص پڑھ سکتا ہے، وہ صرف دی گئی بات قبول کرنے تک محدود نہیں رہتا۔ وہ اصل متن تک پہنچ سکتا ہے۔ مختلف روایتوں کو ایک دوسرے کے مقابل رکھ سکتا ہے۔ وہ پوچھ سکتا ہے:
تاریخ ہمیں کس نے سنائی؟ کیا محفوظ کیا گیا؟ کیا ضائع ہو گیا؟ کس کی آواز باقی رہی؟ اور کس کی آواز خاموش کر دی گئی؟
یہ سوالات کسی بھی زندہ معاشرے کے لیے آسان نہیں ہوتے۔ اسی لیے تاریخ میں کتابیں صرف علم کا ذریعہ نہیں رہیں؛ وہ کبھی طاقت بنیں، کبھی مزاحمت، کبھی انقلاب اور کبھی اختلاف کی بنیاد۔ پڑھنے والا انسان صرف قاری نہیں رہتا؛ وہ گواہ بن جاتا ہے۔
جب ہم کسی تاریخی متن کا ترجمہ پڑھتے ہیں تو ہم مترجم کی آنکھ سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ لیکن جب ہم اصل متن پڑھنے کے قابل ہو جائیں تو تحقیق کے امکانات یکسر بدل جاتے ہیں۔ ہم متن کو خود دیکھ سکتے ہیں، لفظ کی ساخت اور سیاق کو سمجھ سکتے ہیں، مختلف نسخوں کا موازنہ کر سکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر، سوال پوچھنے کے لیے کسی دوسرے شخص کے محتاج نہیں رہتے۔ یہی Source Literacy کا بنیادی تصور ہے: یعنی اصل ماخذ تک براہِ راست پہنچنے اور اسے سمجھنے کی صلاحیت۔
کچھ عرصہ قبل لاہور میوزیم میں محترمہ عظمٰی عثمانی صاحبہ، جو وہاں منی ایچر پینٹنگز سے متعلق امور کی نگہداشت کی ذمے دار ہیں، کے ساتھ گفتگو کا موقع ملا۔ دورانِ گفتگو انہوں نے ایک ایسا تجربہ میرے ساتھ شیئر کیا جس نے مجھے رسم الخط، تاریخی تحقیق اور ہمارے محققین کی علمی تربیت کے حوالے سے ایک اہم سوال پر رک جانے پر مجبور کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور میوزیم میں جب بیرونِ ملک سے محققین آتے ہیں، خواہ وہ جرمنی، برطانیہ، کینیڈا، امریکا یا دنیا کے کسی دوسرے ملک سے ہوں، تو ان میں سے بہت سے محققین متعدد رسم الخطوط پر مضبوط گرفت رکھتے ہیں۔ بعض محققین سات، آٹھ یا اس سے بھی زیادہ رسم الخط پڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ بات میرے لیے خاصی حیرت انگیز تھی۔ حیرت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میں خود پاکستان میں متعدد محققین سے تعلق رکھتا ہوں۔ ان کے ساتھ بیٹھنے، گفتگو کرنے، علمی موضوعات پر تبادلۂ خیال کرنے اور مختلف تاریخی و ثقافتی موضوعات پر ان کے کام کو دیکھنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ میرے ذاتی مشاہدے میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہمارے ہاں بہت سے محققین دو یا تین رسم الخطوط سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔ بعض صورتوں میں تین یا چار رسم الخطوط تک رسائی ہوتی ہے، لیکن اس کے بعد ایک واضح خلا پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ صورتِ حال محض ایک معمولی علمی کمی نہیں۔ میرے نزدیک یہ تاریخ کے ساتھ ہمارے تعلق کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔
ایک محقق جب کسی قدیم مخطوطے، فرمان، خط، سرکاری دستاویز، کتبے، روزنامچے، ادبی متن یا کسی دوسرے تاریخی ماخذ کے سامنے بیٹھتا ہے تو سب سے پہلی ضرورت یہ ہوتی ہے کہ وہ اس متن کو براہِ راست پڑھ سکے۔ اگر وہ رسم الخط ہی نہ پڑھ سکے تو اس کے سامنے موجود اصل ماخذ، اپنی تمام تر اہمیت کے باوجود، اس کے لیے خاموش ہو جاتا ہے۔
پھر محقق ترجمے کا محتاج ہوتا ہے۔ وہ کسی دوسرے شخص کی قرأت پر انحصار کرتا ہے۔ ثانوی ماخذوں کے ذریعے اصل دستاویز تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ یوں تحقیق کی ایک اہم کڑی اس کے اور اصل تاریخی مواد کے درمیان حائل ہو جاتی ہے۔ اسی لیے میرے نزدیک رسم الخط کا علم Source Literacy کا بنیادی حصہ ہے۔
یہاں مسئلہ یہ نہیں کہ مترجم یا ترجمہ ناقابلِ اعتماد ہوتا ہے۔ ترجمہ تحقیق کا ایک اہم وسیلہ ہے۔ مسئلہ صرف اتنا ہے کہ جب محقق اصل متن سے براہِ راست واقف ہو تو اس کے پاس سوال کرنے، موازنہ کرنے اور ترجمے کو پرکھنے کی ایک اضافی علمی قوت بھی موجود ہوتی ہے۔
برصغیر کی تاریخ کو ذرا گہرائی سے دیکھا جائے تو یہاں مختلف اقوام، زبانوں، سلطنتوں اور تہذیبوں کا ایک طویل اور پیچیدہ باہمی تعامل نظر آتا ہے۔
مختلف ادوار میں وسطی ایشیا، ایران، عرب دنیا اور دیگر خطوں سے آنے والے لوگوں کے ساتھ نئی زبانیں، نئی علمی روایتیں اور نئے تحریری طریقے بھی یہاں پہنچے۔ مقامی روایتوں کے ساتھ ان کے امتزاج نے برصغیر کے تہذیبی منظرنامے کو غیر معمولی تنوع عطا کیا۔
برہمی سے نکلنے والے مختلف رسم الخط، دیوناگری، گرمکھی، فارسی-عربی رسم الخط اور متعدد علاقائی تحریری روایتیں مختلف ادوار میں استعمال ہوتی رہیں۔ بعض رسم الخط مذہبی، ادبی یا علاقائی روایتوں سے وابستہ ہوئے، جبکہ بعض نے انتظامی اور سرکاری سطح پر بھی اہم کردار ادا کیا۔ خصوصاً فارسی نے برصغیر کی سیاسی، انتظامی، ادبی اور علمی تاریخ میں ایک طویل عرصے تک غیر معمولی اہمیت حاصل کی۔ فارسی کے ساتھ فارسی-عربی رسم الخط کا استعمال وسیع ہوا، اور بعد کے ادوار میں اردو نے بھی اسی تحریری روایت کو اپنی بنیادی شناخت کا حصہ بنایا۔ چنانچہ اگر کوئی محقق برصغیر کی سیاسی، سماجی، ادبی، انتظامی یا ثقافتی تاریخ پر کام کرنا چاہتا ہے تو فارسی، عربی اور اردو کے متعلقہ رسم الخط سے واقفیت کئی موضوعات میں بنیادی ضرورت بن جاتی ہے۔
اسی طرح پنجاب کی تاریخ، سکھ روایت، پنجابی ادب یا علاقائی تاریخ پر کام کرنے والے محقق کے لیے گرمکھی ایک ایسے وسیع ماخذی ذخیرے تک رسائی کا ذریعہ بن سکتی ہے جو دوسری صورت میں صرف ترجمہ شدہ مواد کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ لیکن برصغیر کے تحریری منظرنامے کو صرف مقامی اور مشرقی رسم الخطوط تک محدود کر دینا بھی تصویر کو نامکمل چھوڑ دیتا ہے۔ نوآبادیاتی دور میں رومن رسم الخط بھی برصغیر کے علمی، انتظامی، تعلیمی اور مطبوعاتی منظرنامے کا ایک اہم حصہ بن گیا۔ انگریزی زبان کے ساتھ رومن رسم الخط سرکاری مراسلات، رپورٹس، مردم شماری، اخبارات، تعلیمی مواد، نقشوں، سفرناموں اور مختلف انتظامی و نوآبادیاتی دستاویزات میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوا۔
اس لیے جو محقق برطانوی ہندوستان، نوآبادیاتی انتظامیہ، انگریزی تعلیم، مشنری سرگرمیوں، نوآبادیاتی ادب یا اس دور کے مطبوعہ و سرکاری ریکارڈ پر کام کرتا ہے، اس کے لیے رومن رسم الخط سے واقفیت بھی اسی ماخذی سفر کا ایک اہم حصہ بن جاتی ہے۔
یوں برصغیر کی تاریخ کو سمجھنے والا محقق دراصل ایک ایسے تہذیبی منظرنامے کے سامنے کھڑا ہے جہاں دیوناگری، گرمکھی، فارسی-عربی اور رومن سمیت متعدد رسم الخط ایک دوسرے کے ساتھ تاریخی طور پر موجود رہے ہیں۔ ہر رسم الخط اپنے ساتھ صرف حروف نہیں بلکہ ایک مخصوص تاریخی، سیاسی، مذہبی، ادبی اور تہذیبی حافظہ بھی لے کر آتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہر شخص کو دنیا کے ہر رسم الخط پر عبور حاصل ہونا چاہیے۔ ایسا نہ ممکن ہے اور نہ ضروری۔
اصل سوال یہ ہے: کیا ہم اپنے تحقیقی موضوع کے بنیادی ماخذوں کی زبانوں اور رسم الخطوط کو جاننے کی سنجیدہ کوشش کر رہے ہیں؟
اگر کوئی شخص پنجاب کی تاریخ پر تحقیق کرتا ہے مگر گرمکھی نہیں پڑھ سکتا، اگر کوئی مغلیہ یا نوآبادیاتی انتظامیہ کی دستاویزات پر کام کرتا ہے مگر فارسی اور اس کے متعلقہ رسم الخط سے ناواقف ہے، یا اگر کوئی عربی ماخذ استعمال کرنا چاہتا ہے مگر عربی متن سے براہِ راست معاملہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، تو اسے کم از کم یہ احساس ضرور ہونا چاہیے کہ اس کی تحقیق اور اصل ماخذ کے درمیان ایک فاصلہ موجود ہے۔
اسی طرح اگر کوئی محقق برطانوی ہندوستان کے انتظامی یا سماجی ریکارڈ پر کام کرتا ہے تو رومن رسم الخط میں محفوظ انگریزی مواد تک براہِ راست رسائی بھی اس کی تحقیق کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔ یہ فاصلہ ہمیشہ تحقیق کو غلط نہیں بناتا، لیکن اسے محدود ضرور کر سکتا ہے۔ عظمٰی عثمانی صاحبہ کے بیان کردہ تجربے کا سب سے اہم پہلو میرے لیے یہی تھا کہ بیرونِ ملک سے آنے والے بعض محققین ایک ہی موضوع کے لیے کئی رسم الخط سیکھنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔
یہاں ہمیں خود سے ایک سوال کرنا چاہیے: آخر ایسا کیوں ہے؟
شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہاں تحقیق کو صرف موضوع کے مطالعے تک محدود نہیں رکھا جاتا بلکہ بنیادی ماخذ تک براہِ راست رسائی کو تحقیقی تربیت کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔ محقق کو معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ کسی تہذیب، خطے یا تاریخی دور پر کام کر رہا ہے تو اسے اس تہذیب کے بنیادی متنی شواہد تک پہنچنے کی صلاحیت بھی پیدا کرنی ہوگی۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں بعض اوقات تحقیق کا بڑا حصہ ثانوی کتابوں، تراجم اور پہلے سے موجود تحقیقات پر منحصر ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً ہم ایک ہی علمی روایت کو بار بار دہراتے رہتے ہیں، مگر اصل ماخذ کی دنیا میں داخل نہیں ہو پاتے۔ یہ کسی فرد کی ناکامی نہیں؛ یہ ہمارے مجموعی تحقیقی نظام کے لیے ایک سوال ہے۔
رسم الخط صرف ماضی کو پڑھنے کا ذریعہ نہیں؛ یہ تہذیبی شناخت کا بھی ایک اہم جز ہے۔ گرمکھی ہمیں پنجاب کی ایک مخصوص ادبی اور مذہبی روایت تک لے جاتی ہے۔ فارسی-عربی رسم الخط ہمیں صدیوں کی انتظامی، ادبی اور علمی روایتوں سے جوڑتا ہے۔ دیوناگری اور دیگر علاقائی رسم الخط اپنے اپنے تاریخی و تہذیبی سیاق میں ایک پوری دنیا کو محفوظ کیے ہوئے ہیں۔ اسی طرح رومن رسم الخط برصغیر کے نوآبادیاتی دور، انگریزی تعلیم، جدید مطبوعات، سرکاری ریکارڈ اور برطانوی عہد کے متعدد تاریخی شواہد تک رسائی کا ذریعہ بنتا ہے۔
اس لیے کسی رسم الخط کو سیکھنا صرف الفاظ پڑھنا نہیں۔ یہ اس تہذیب کے اندر داخل ہونے کی کوشش ہے جس نے ان الفاظ کو جنم دیا، انہیں لکھا، محفوظ کیا اور نسل در نسل منتقل کیا۔ شاید اسی لیے رسم الخط کو تاریخ کے بند دروازوں کی کنجی کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔
ہمیں یہ سوال ضرور اٹھانا چاہیے کہ پاکستان میں تاریخ، آثارِ قدیمہ، فنِ تاریخ، ادب، لسانیات اور ثقافتی ورثے کے طلبا اور محققین کے لیے رسم الخط کی باقاعدہ تعلیم کو تحقیق کا حصہ کیوں نہیں بنایا جاتا؟ کیا کسی محقق کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ کسی تاریخی متن کا ترجمہ پڑھ لے؟ یا اسے اس قابل بھی ہونا چاہیے کہ جب اصل دستاویز اس کے سامنے رکھی جائے تو وہ کم از کم اسے براہِ راست پڑھنے، سمجھنے اور اس کی نوعیت کا تعین کرنے کی کوشش کر سکے؟ میرے خیال میں ہمیں اس سمت میں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔
ضروری نہیں کہ ہر محقق سات یا آٹھ رسم الخط سیکھے۔ لیکن ایک سنجیدہ محقق کو اپنے موضوع کے بنیادی ماخذوں تک پہنچنے کے لیے مطلوبہ رسم الخط سیکھنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ تحقیق کا مقصد صرف پہلے سے لکھی ہوئی بات کو دوبارہ لکھ دینا نہیں؛ تحقیق کا اصل مقصد نئے شواہد تک پہنچنا، انہیں سمجھنا، پرکھنا اور ان سے نئی علمی جہتیں دریافت کرنا ہے۔ اور نئے شواہد تک پہنچنے کے لیے کبھی کبھی سب سے پہلا قدم کتاب پڑھنا نہیں بلکہ اس کتاب کو پڑھنے کا رسم الخط سیکھنا ہوتا ہے۔
ہم اپنی تاریخ کو براہِ راست پڑھنے کے لیے کتنے تیار ہیں؟ ہمارے عجائب گھروں، کتب خانوں، آرکائیوز اور نجی مجموعوں میں بے شمار تاریخی مواد موجود ہے۔ ہمارے سامنے مخطوطات ہیں، خطوط ہیں، فرمان ہیں، کتبے ہیں، اخبارات ہیں، ادبی کتابیں ہیں اور ایسی دستاویزات ہیں جن میں ہمارے ماضی کی بے شمار کہانیاں پوشیدہ ہیں۔ لیکن ان کہانیوں تک رسائی کے لیے صرف تجسس کافی نہیں۔ ہمیں ان کی زبانیں سیکھنی ہوں گی، ان کے رسم الخط پڑھنے ہوں گے اور اپنے ماضی سے براہِ راست مکالمہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی۔ کیونکہ جو تاریخ ہم صرف ترجمے میں پڑھتے ہیں، وہ ہمیں ماضی کا ایک عکس دیتی ہے؛ لیکن جس تاریخ کو ہم اس کے اصل متن میں پڑھ سکتے ہیں، وہ ہمیں ماضی کی آواز کے زیادہ قریب لے جاتی ہے۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ پڑھنا، محض ایک معصوم سا عمل نہیں۔ پڑھنا ہمیں سوال کرنا سکھاتا ہے۔ سوال ہمیں روایت کے پیچھے دیکھنا سکھاتے ہیں۔ اور جب انسان روایت کے پیچھے موجود اصل متن تک پہنچ جاتا ہے، تو وہ صرف تاریخ پڑھ نہیں رہا ہوتا—وہ تاریخ سے براہِ راست مکالمہ کر رہا ہوتا ہے۔ شاید اسی معنی میں پڑھنا ایک طرح کا خطرہ بھی ہے۔ کیونکہ علم کا سب سے بڑا خطرہ یہ نہیں کہ وہ ہمیں کیا بتاتا ہے؛ بلکہ یہ ہے کہ وہ ہمیں ان سوالات تک پہنچا دیتا ہے جن سے ہم پہلے ناواقف تھے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
from The Express News https://ift.tt/U3Qs2x7
یہ بلاگ تلاش کریں
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
بلاگ آرکائیو
- اگست 2026 (23)
- جولائی 2026 (39)
- جون 2026 (34)
- مئی 2026 (40)
- اپریل 2026 (43)
- مارچ 2026 (48)
- فروری 2026 (45)
- جنوری 2026 (39)
- دسمبر 2025 (38)
- نومبر 2025 (39)
- اکتوبر 2025 (43)
- ستمبر 2025 (48)
- اگست 2025 (48)
- جولائی 2025 (45)
- جون 2025 (45)
- مئی 2025 (42)
- اپریل 2025 (48)
- مارچ 2025 (41)
- فروری 2025 (33)
- جنوری 2025 (40)
- دسمبر 2024 (36)
- نومبر 2024 (45)
- اکتوبر 2024 (38)
- ستمبر 2024 (36)
- اگست 2024 (37)
- جولائی 2024 (36)
- جون 2024 (50)
- مئی 2024 (66)
- اپریل 2024 (71)
- مارچ 2024 (70)
- فروری 2024 (57)
- جنوری 2024 (74)
- دسمبر 2023 (73)
- نومبر 2023 (79)
- اکتوبر 2023 (105)
- ستمبر 2023 (131)
- اگست 2023 (120)
- جولائی 2023 (123)
- جون 2023 (127)
- مئی 2023 (157)
- اپریل 2023 (150)
- مارچ 2023 (155)
- فروری 2023 (154)
- جنوری 2023 (24)
- اگست 2022 (5)
Click here to load more...
Post A Comment:
0 comments: