Navigation

کینیا کا صومالیہ کے ساتھ سرحد 15 سال بعد دوبارہ کھولنے کا اعلان

کینیا کے صومالیہ کی سرحد کھولنے کے اعلان کے بعد دو طرفہ آمد و رفت اپریل سے شروع ہوجائے گی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کینیا نے صومالیہ کے ساتھ سرحدوں کو 2011 میں الشباب نامی شدت پسند گروپ کے حملوں کے باعث بند کردی تھی۔ تاہم اب کینیا کے صدر ولیم روٹو نے اعلان کیا ہے کہ صومالیہ کے ساتھ سرحد کو 15 سال کی بندش کے بعد دوبارہ کھولا جا رہا ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اپریل سے سرحدی راستے کے ذرہعے دو طرفہ تجارتی اور سفری آمد و رفت بھی شروع ہوجائے گی۔ یاد رہے کہ کینیا اور صومالیہ کے درمیان حالیہ مہینوں میں ہی سیکیورٹی تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ اور سرحدی نگرانی بہتر بنانے پر اتفاق ہوا ہے۔ کینیا نے امکان ظاہر کیا ہے کہ سرحد کھولنے سے قانونی تجارت، انسانی نقل و حرکت اور علاقائی استحکام کو فروغ ملے گا۔ قبل ازیں دونوں ممالک کے درمیان مویشیوں، زرعی اجناس اور دیگر اشیا کی تجارت تاریخی طور پر اہم رہی ہے۔ الشباب کی کارروائیاں اور حملے شدت پسند تنظیم الشباب نے صومالیہ سے کینیا پر متعدد حملے کیے ہیں جن میں 2013 میں نیروبی کے ویسٹ گیٹ شاپنگ مال پر حملے میں 67 افراد جبکہ 2015 میں مشرقی کینیا کی گاریسا یونیورسٹی پر حملے میں 148 افراد جان سے گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ سرحد کھولنے کے فیصلے پر سیکیورٹی خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے اور سرحدی گزرگاہوں پر سخت چیکنگ، رجسٹریشن نظام اور جدید نگرانی کے آلات نصب کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔  

from The Express News https://ift.tt/1s7ALQi
Share

Post A Comment:

0 comments: